کروناوائرس نجی کمپنی کو روسی ویکسین درآمد کرنے کی
اجازت
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے دوا ساز کمپنی اے جی پی کو پاکستان میں روسی اسپاٹونک وی ویکسین کو درآمد اور متعارف کرانے کی اجازت دے دی
منگل 2 فروری کو اے جی پی نے جب اسٹاک مارکیٹ کو اس خبر سے مطلع کیا تو ویکسین کی قیمت 132 روپے سے بڑھ کر 134.62 روپے ہوگئی 30 جنوری سے ویکسین کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا اور تب اس کی قیمت 114 روپے تھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر موجود اے جی پی کے نوٹیفیکیشن کے مطابق ڈریپ نے یکم فروری کو کمپنی اسپاٹونک وی ویکسین کے لیے ہنگامی استعمال کی اجازت دے دی ہے تاکہ اسپاٹونک وی ویکسین کی وجہ سے کرونا وائرس کے انفیکشن سے بچا جا سکے
نوٹیفیکیشن میں مزید لکھا ہے کہ کمپنی کو پاکستان میں ویکسین درآمد کرنے اور متعارف کروانے کا بھی اختیار دیا گیا ہے اور اب وہ ہنگامی بنیادوں پر مناسب فراہمی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے
مذکورہ ویکسین گمالیا نیشنل سینٹر اینڈ مائیکروبیالوجی روس نے تیار کی ہے
اے جی پی کے مطابق ویکسین روس. ہنگری. ارجنٹینا اور متحدہ عرب امارات سمیت 15 ممالک میں منظور کر لی گئی ہے جبکہ بعض دیگر ممالک میں رجسٹریشن جاری ہے
کلینیکل اسٹڈی جو 31ہزار 862 رضاکاروں کے فیز تھری ٹرائلز پر مبنی ہے کہ رپورٹ کے مطابق اسپاٹونک وی ویکسین کی افادیت کا تعین 71.6 فیصد کیا گیا ہے جبکہ کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے 100 فیصد افادیت ہے
نوٹیفیکیشن کے مطابق ویکسین کا حفاظتی انتظام اچھا ہے اور خاص طور پر ویکسین سے کوئی الرجی ہونے کا امکان نہیں ہے یہ کرونا کی اب تک کی سب سے موثر ویکسین ہے جو پاکستان میں ای یو اے نے حاصل کی ہے جبکہ یہ یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کو بھی دی جاسکتی ہے جس میں 60سال سے زائد عمر کے افراد بھی شامل ہیں


0 Comments
Please Don't Share Adult Comments, pics , and video links...